ابنا: امنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال کے سدھرنے کے بارے میں کوئی امید نہیں رکھتی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ آل سعود کے حکام نے انسانی حقوق کی صورتحال کو سدھارنے کےلئے تجویز کئے گئے تمام اقدامات مسترد کردیئے ہیں اور سعودی عرب نے انسانی حقوق کی المناک صورتحال کو سدھارنے کےلئے دوہزار نو میں جو وعدے کئے تھے ان کو یکسر بھلادیا ہے ۔ مشرق وسطی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے شعبے کے سربراہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں سیکڑوں گرفتاریاں، غیر منصفانہ مقدمے، اور قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی عام بات ہے اور عالمی برادری کو سعودی عرب سے وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ آل سعود کی حکومت کس بنا پر پرامن سرگرمیوں میں مشغول افراد کو گرفتار کرکے جسمانی ایذائيں پہنچاتی ہے اور انہیں برسوں سے قید میں کیوں رکھے ہوئے ہے۔ فیلپ لوتھر نے سیاسی اور سماجی کارکن عبداللہ ہاشمی اور محمد قحطانی کی دس اور گيارہ برسوں کی جیل کی سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو فوری طورپر رہا کیا جانا چاہیئے کیونکہ ان کی سرگرمیاں تعریف کے قابل ہیں نہ یہ کہ انہیں سزا دی جائے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے آج سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
.......
/169